بھارت کا خاتمہ End Of India
18 ستمبر 1969ء وہ دن تھا جب احمدآباد میں فسادات پھوٹ پڑے۔ کانگریس کا ہتندر ڈیسائی گجرات کا وزیر اعلی تھا۔ ابھی ملک وجود میں آئے صرف 22 سال ہوئے تھے اور کانگریس کا سیکولر لبرل راج مستحکم تھااور انکا سیکولر منافقت کے پردے میں جو مسلمان دشمنی پوشیدہ تھی اس نے دو ہزار انسانوں کی جان لے لی تھی۔ اڑتالیس ہزار مکان اور دکانیں نذر آتش کردیں گئیں اور زخمیوں کی تعداد کا کوئی شمار نہ تھا۔ فسادات کا آغاز ایک ہندو سادھو کی گائے سے ہوا، جس نے ایک مسلمان کو سینگ مار کر شدید زخمی کر دیا تھا، گائے پر ہاتھ اٹھانا تھا کہ پورا شہر دس فیصد مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ بڑا قتل عام چھوٹے چھوٹے فسادات کا تسلسل تھا۔ 1960ء سے 1969ء تک گجرات کے شہری علاقوں میں 685 مسلم کش فسادات ہوئے تھے جبکہ ان 685 فسادات میں سے 578 صرف ایک سال یعنی 1969ء میں ہوئے۔ اس حساب سے روزانہ تقریبا 2 فسادات برپا ہوئے۔ ان تمام فسادات میں الیکشن، انتخابی مفاد اور جمہوریت میں اکثریت کی آمریت کی لعنت کی وجہ سے سیکولر کانگریس کا جو روپ نظر آتا ہے وہ بی جے پی سے کسی بھی طور کم نہیں۔ کانگریس حکومت نے آر ایس ایس کا بھرپور ساتھ دیا اور آئ...