America And Taliban امریکہ اور طالبان

امریکہ اور طالبان کا نام سنتے ہی ایک جنگ کا منظر سامنے آتا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے کے دو جانی دشمن کا ذکر ہو رہا ہو لیکن گذشتہ چند ماہ سے یہ کیفیت بدال رہی ہا اور جو کل کے جانی دشمن تھے آج وہ مذاکرات کی میز پر ہیں . اگر ان دونوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ دونوں پارٹیاں ایک دوسری کے کئی لوگ مار چکی ہیں یا گرفتار کر چکی ہیں . لیکن ان دونوں میں سے کس کے حصے میں کامیابی اور کس کو ناکامی کا سامنا کرنا پارا آج کا ہمارا موضو اسی بات پر ھوگا
اگر امریکہ کی بات کی جائے تو امریکہ افغانستان میں 19 سال سے موجوود ہے اور امریکہ نے افغانستان پر حملہ 9 / 11 کے حملوں کے بعد کیا تھا ، اور اس وقت ان کا مقصد یہ تھا کے اپنے دشمن کو اسکی سرزمیں پر ہی نیسٹ و نابود کیا جائے ،
اور دوسری طرف طالبان کی پوزیشن کو دیکھا جائے تو ان کے مؤقف کے مطابق وہ اپنے ملک اور انکی جو اسلامی حوقومت تھی اسکی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جو کا امریکہ کے ہملی کے وقت تھی اور بعد میں تباہ ہو گئی .
دونوں کے مواکیف اپنی جگه لیکن اِس وقت کس کی پوزیشن کتنی مضبوط ہا اِس کا اندازہ مذاکرات سے لگایا جا سکتا ہا ، پہلے تو یہ بات ہی طالبان کے لیے پلس پوائنٹ ہوتا ہے کے امریکہ جیسے سپر پاور ریاست جو اپنے 26 ملکوں کے اتحاد کے سعد تمام تر وسائل بہترین ٹیکنالوجی جدید اصلی اور بہترین کمیونیکیشن کے زارایو کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوئے اور دوسری طرف طالبان جو ان سے طاقت میں بہت کمزور اور انفراستروکتوری کے لحاظ سے تو پہاڑوں پہ رہنے والے ہی تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے امریکہ کو مذاکرات کی میز پہ انای پر مجبور کر دیا اور اِس بات کو منوا لیا کے وہ بی سپر پاورس کا مقابلہ بہت اچھے سے کر سکتی ہیں اور اپنے ملک میں کسی قسِم کی ماداخالت برداشت نہیں کریں گے .
اب اگر موجودا صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو امریکہ کی طرف سے مذاکرات معطل کر دیئے ہیں کیوں کے پچھلے طالبان نے حملہ کیا ہا اور امریکہ کا کہنا ہا کے مذاکرات اور ہملی سٹھ سٹھ نیحین چلا سکتی .
دوسری طرف دیکھا جائے تو طالبان نے ابی تک کسی جنگ بندی کے موایدی پر دستخط نی کیا اور ان کا وضع مواکاف ہا کے جب تک امریکہ 1 منتھ کی تیمیلینی نی دیتا کے وہ اپنی افواز کو افغانستان سے نیکالی گا تب تک جنگ بندی کا اعلان نیحین ھوگا ،
اگر دیکھا جائے تو افغان طالبان جن کو دنیا جاہل اور پتھر کے زمانے کا سمجھتے تھی لیکن وہ آکسفورڈ اور ہاورڈ یونیورسٹیز کے ڈگری ہولڈر سے زیادہ سمجھدار ہیں . طالبان نے جو حالیہ حملہ کیا ہا وہ حملہ ایک حساس اور امیریکنس کے لیے بہت اہمیت والے کیمپ پر حملہ تھا ، کیوں کے امریکہ یہاں سے تب تک نی نکلنا چاہتا جب تک کے وہ اِس خیتتی سے نکلنا کے بعد بی اپنا اثرو رسوخ برقرار رخنی کے لیے کوئی یکداام نا کر لی اور یہ کیمپ اسی کا انتظام تھا ،
کہا یہ جا رہا ہا کے یہ کیمپ بدنام زمانہ بلاکواتیر کی سارجارمیو کے لیے تھا جو کے امریکن فوج کے نکالنے کے بعد اِس خیتتی کا کنٹرول سامبحالتی ، اِس سے پہلے امریکہ نے مذاکرات میں سی آئی اے کے لیے بی حیادقواتیر کی بیٹ بی رخی تھی جو طالبان نے رد کر ڈی تھی ،
امیریکنس نے بی اِس کا مطلوبہ دوبارہ اِس لیے بی نہیں کیا کیوں کے انہوں نے ماضی میں بی سی آئی اے کے حیادقواتیر پر حملہ ہوتے دیکھا ہا جس میں کافی ایجنٹس ایک ساتھ ماری گئے تھے .
باہر حال یہ تو اب وقت ہی بتائے گا کے اِس خیتتی کا مستقبل کیا ھوگا لیکن یہ بات تو تہہ ہا کے امریکہ مذاکرات کامیاب ہونی میں بی ہار چکا اور ناکام ہونی میں بی . کیوں کے کامیابی کی صورت میں وہ طالبان کو اک پاور اکسیپٹ کر کے افغانستان سے نکلیں گے اور ناکامی کی صورت میں آل ریڈی افغانستان امریکن کا قبرستان بنا ہوا ہا ، امریکہ داعد لاکھ فوج کے ساتھ یہاں موجود ہا اور اپنی بیسز تک محدود ہا اور اسے مزید فوج کی ضرورت ہا کچھ سرواوفس کرنے کے لیے لیکن امریکن فوجی اِس نا ختم ہونی والی جنگ سے تنگ آ چکے ہیں اور مزید فوج اب یہاں انا نیحین چاہتی اِس لیے امریکہ اب ایک ٹریپ کی صورت میں ہا اور بری طرح سے پھس چکا ہے .
Comments
Post a Comment